اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، فلسطینی مجلس قانون ساز کے رکن اور پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر حسن خریشہ نے کہا ہے کہ امریکا نے فلسطینیوں کے خلاف واضح انتقامی حکمت عملی اختیار کی ہے اور اس حکمت عملی کے تحت فلسطینیوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے۔
خریشہ کا کہنا ہے کہ امریکا کی طرف سے فلسطینیوں کی مالی امداد میں کٹوتی اور حال ہی میں غرب اردب اور غزہ کے لیے ملنے والی امداد ۲۰ کروڑ ڈالر ختم کرکے دوسرے علاقوں میں منتقل کرنا فلسطینیوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔
حسن خریشہ کا کہنا ہے کہ امریکا کی انتقامی پالیسی کے خلاف فلسطینی قوم کو مل کر ایک اور جاندار موقف اختیار کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی اور صدر عباس کی طرف سے صدی کی ڈیل کو مسترد کرنے اور امریکیوں سے ملاقات سے انکار مثبت اشارہ ہے۔ مگر صدر عباس کو تنہا نہیں بلکہ پوری قوم کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔
حسن خریشہ کا کہنا ہے کہ فلسطینی صدر کو چاہیے کہ وہ غزہ کی پٹی پر عاید کردہ پابندیوں کو فوری اٹھائیں اور غزہ کی پٹی میں جاری عوامی احتجاجی مظاہروں کو غرب اردن منتقل کیا جائے۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلسطینی اتھارٹی کی ۲۰ کروڑ ڈالر کی امداد بند کر دی ہے یہ امداد مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی کے علاقے میں خرچ کی جانا تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲